26 ستمبر 2024 - 16:17
لبنان پر زمینی حملے کی صورت میں اسرائیل کو رسواکن شکست ہوگی، سیدعبدالملک الحوثی

یمن کی تحریک انصار اللہ کے راہنما اور انقلاب یمن کے قائد نے لبنان پر صہیونیوں کی زمینی جارحیت کی صورت میں اسرائیل کی شکست کو حتمی قرار دیا اور کہا: حزب اللہ جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اپنے میزائلوں سے پورے مقبوضہ فلسطین کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، انقلاب یمن اور تحریک انصار اللہ کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے جمعرات (26 سمتمبر 2024ع‍ کو) غزہ اور لبنان کے خلاف صہیونی جارحیت کی آخری صورت حال کے حوالے اپنے نشری خطاب میں کہا:

لبنانی قوم پر صہیونیوں کی جارحیت فلسطین پر صہیونی جارحیت کا تسلسل ہے

- غزہ میں صہیونی جرائم کی سطح بہت وسیع ہے اور بے مثال ہے، اور یہ جرائم صہینونیوں کی ناکامیوں اور شکستوں میں گھل مل گئے ہیں، کیونکہ اسرائیل اپنے قیدی رہا نہیں کرا سکا ہے اور غزہ کے مجاہدین کا خاتمہ کرنے سے عاجز ہے۔

- غاصب صہیونی ریاست، غزہ کی دلدل میں پھنس گئی ہے اور ہر روز مالی اور جانی نقصانات اٹھا رہی ہے، صہیونی دشمن قتل عام، تباہ کاری، بھوک مسلط کرنے، امریکی حمایت اور سیاسی حمایتوں کے باوجود اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہے۔

- فلسطین کے حوالے سے عرب ممالک کی انفعالیت قابل مذمت ہے، اور یہ صورت حال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہے، لیکن فلسطینی قوم بدستور استقامت کر رہی ہے۔ 

حزب اللہ صہیونی ریاست پر عظیم ترین ناکامیوں سے دوچار کرچکی ہے

- صہیونی دشمن نے لبنان میں بھی غزہ ہی جیسا رویہ جاری رکھا ہؤا ہے، اندھادھند حملے کر رہا ہے، غیر فوجیوں کا قتل عام کر رہا ہے، گھروں کو تباہ کر رہا ہے، اور اس صہیونی اقدام کی وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ نے غزہ کی حمایت میں سب سے زیادہ تعمیری اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

- دشمن کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کا کردار بنیادی اور اہم ہے، حزب اللہ کی کامیابیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اس نے فلسطین، لبنان اور امت مسلمہ کے حق میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حزب اللہ نے [ماضی میں] صہیونیوں کو عظیم ترین شکستوں سے دوچار کیا ہے، وہ ایسے وقت میں کہ اس وقت اس کے پاس آج جیسے فوجی وسائل، ہتھیار اور نفری  نہیں تھی۔

حزب اللہ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور ہے

- بلا شبہ حزب اللہ ماضی سے کہیں زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ حزب اللہ کے حامی عوام جہادی ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اور وہ اپنے مجاہدین کی برکت سے بڑي کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہے۔

- صہیونی ریاست لبنان پر حملہ کرکے حزب اللہ کو غزہ اور ملت فلسطین کی حمایت سے باز رکھنا چاہتی ہے، لیکن وہ اس مقصد کو بھی حاصل نہیں کرسے گی۔ غزہ کے تئیں حزب اللہ کی حمایت دینی، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر استوار ہے اور اسی اثناء میں حزب اللہ کا کردار لبنان کے مقاد میں بھی ہے۔  

 - اسرائیلی دشمن امت کی دشمنی دل میں سمائے ہوئے ہے، اگر دشمن فلسطین میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا ہوتا تو بعدازاں بڑے اطمینان سے لبنان پر ہلہ بولتا اور اسے نشانہ بنا دیتا۔

- لبنان پر صہیونی حملہ پہلے سے تیار کردہ منصوبے کے تحت ہؤا ہے، دشمن لبنان اور حزب اللہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اور اس نے کئی منصوبے تیار کئے تھے، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حزب اللہ طاقتور، متحد اور مستحکم ہے۔

اسرائیل کا انجام نابودی ہے، فلسطینی اور لبنانی عوام کا قتل عام اس انجام کو بدل نہین سکتا

- حزب اللہ کے حملوں کے بعد صہیونیوں کی پناہ گاہیں بھر گئی ہیں اور ان میں مزید صہیونیوں کے پناہ لینے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ اب اگر صہیونی دشمن لبنان پر زمینی حملہ کرنے کی جرات کرے تو اس کو بھاری جانی اور مالی نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے اور حتمی نتیجہ دشمن کی رسوا کن شکست کی صورت میں برآمد ہوگا۔

- فلسطین کے حوالے سے عرب ممالک کی انفعالیت قابل مذمت ہے، ان کی بے حسی اور  یہ صورت حال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہے، لیکن فلسطینی قوم بدستور استقامت کر رہی ہے۔  

حزب اللہ صہیونی ریاست پر عظیم ترین ناکامیوں سے دوچار کرچکی ہے

- صہیونی دشمن نے لبنان میں بھی غزہ ہی جیسا رویہ جاری رکھا ہؤا ہے، اندھادھند حملے کر رہا ہے، غیر فوجیوں کا قتل عام کر رہا ہے، گھروں کو تباہ کر رہا ہے، اور اس صہیونی اقدام کی وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ نے غزہ کی حمایت میں سب سے زیادہ تعمیری اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

- دشمن کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کا کردار بنیادی اور اہم ہے، حزب اللہ کی کامیابیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اس نے فلسطین، لبنان اور امت مسلمہ کے حق میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حزب اللہ نے [ماضی میں] صہیونیوں کو عظیم ترین شکستوں سے دوچار کیا ہے، وہ ایسے وقت میں کہ اس وقت اس کے پاس آج جیسے فوجی وسائل، ہتھیار اور نفری  نہیں تھی۔

حزب اللہ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور ہے

- بلا شبہ حزب اللہ ماضی سے کہیں زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ حزب اللہ کے حامی عوام جہادی ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اور وہ اپنے مجاہدین کی برکت سے بڑي کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہے۔

- صہیونی ریاست لبنان پر حملہ کرکے حزب اللہ کو غزہ اور ملت فلسطین کی حمایت سے باز رکھنا چاہتی ہے، لیکن وہ اس مقصد کو بھی حاصل نہیں کرسے گی۔ غزہ کے تئیں حزب اللہ کی حمایت دینی، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر استوار ہے اور اسی اثناء میں حزب اللہ کا کردار لبنان کے مقاد میں بھی ہے۔  

 - اسرائیلی دشمن امت کی دشمنی دل میں سمائے ہوئے ہے، اگر دشمن فلسطین میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا ہوتا تو بعدازاں بڑے اطمینان سے لبنان پر ہلہ بولتا اور اسے نشانہ بنا دیتا۔

- لبنان پر صہیونی حملہ پہلے سے تیار کردہ منصوبے کے تحت ہؤا ہے، دشمن لبنان اور حزب اللہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اور اس نے کئی منصوبے تیار کئے تھے، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حزب اللہ طاقتور، متحد اور مستحکم ہے۔

اسرائیل کا انجام نابودی ہے، فلسطینی اور لبنانی عوام کا قتل عام اس انجام کو بدل نہین سکتا

- حزب اللہ کے حملوں کے بعد صہیونیوں کی پناہ گاہیں بھر گئی ہیں اور ان میں مزید صہیونیوں کے پناہ لینے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ اب اگر صہیونی دشمن لبنان پر زمینی حملہ کرنے کی جرات کرے تو اس کو بھاری جانی اور مالی نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے اور حتمی نتیجہ دشمن کی رسوا کن شکست کی صورت میں برآمد ہوگا۔

- فلسطین کے حوالے سے امت مسلمہ کی انفعالیت نے مسلم اقوام کو عظیم ترین نقصانات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی دشمن کے ساتھ ہماری امت کی اس جنگ کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ہم اس دشمن کی نابودی کے حوالے سے قرآنی حقائق پر ایمان رکھتے ہیں۔

- یقینی امر ہے کہ صہیونیوں کے وحشیانہ اور بھونڈے جرائم اس کی نابودی کے حوالے سے حقائق کو بدل نہیں سکتے؛ اگرچہ ناامیدی اور بے ایمانی نے بعض مسلمانوں کو صہیونی دشمن کے ساتھ سازباز اور شراکت داری کی طرف کھینچ لیا ہے۔ غاصب صہیونی ریاست کی شناخت کا دارومدار ہی قتل عام، جارحیت اور تشدد پر ہے، تو ایسی صورت میں ہماری اقوام اس کے ساتھ بقائے باہیمی کی توقع رکھی سکتی ہیں؟

- امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک مسلمانوں کے درمیان اپنے استعماری مقاصد کے حصول کے لئے صہیونی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیلی دشمن ہماری اقوام پر حملے کے لئے [ان کے ہاتھ میں بندوق کے منہ پر لگی] سنگین (Bayonet) کا کردار ادا کرے۔ مغربی ہر حال میں اور ہر طرح سے اسرائیل کی حمایت کے لئے تیار ہیں۔  

حزب اللہ کے میزآئل پورے مقبوضہ فلسطین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

- فوحی نقطۂ نگاہ سے اور میزائل صلاحیت کے لحاظ سے، حزب اللہ کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو پورے مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کے ٹھکانوں اور مراکز کو نشانہ بنا سکتے ہیں؛ اسرائیلی دشمن لبنانی عوام کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے حوالے سے بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ حزب اللہ یہ خاص قاعدہ دشمن پر مسلط کر رہی ہے کہ:

"ہمیں نقصان پہنچاؤگے تو ہم بھی تمہیں نقصان پہنچائیں گے"۔

- حزب اللہ نے صہیونیوں پر میزائلوں سے حملہ کیا تو صہیونی دشمن نے پناہ گاہوں میں پناہ لی۔ صہیونی دشمن 2006 کے واقعات نہیں بھول سکا ہے۔ لہٰذا ہم امت مسلمہ کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ حزب مکمل طور پر یک جہت، مربوط اور ہم آہنگ ہے۔

- عراق کا معاون محاذ طاقتور، مؤثر اور اہم ہے، دوسری طرف سے بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور خلیج عدن کو صہیونی دشمن کے لئے مکمل "ممنوعہ علاقہ" بنایا گیا ہے۔ امریکہ کے جنگی [بحری] جہاز ہمارے مجاہدین کی زد میں آ کر فرار ہو رہے ہیں۔

- ہمارا "فلسطین-2" میزائل [جس سے تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا] یمنی افواج کے لئے ایک عظیم کامیابی ہے جو صہیونیوں کے خلاف جنگ کے پانچویں مرحلے میں، فوجی کاروائیوں کا حصہ بن گیا ہے۔

- ہم کسی بھی صورت میں غزہ، فلسطین اور لبنان کی حمایت سے دستبردار نہیں ہونگے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110